بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میزان بینک کے ذریعہ گھر خریدنا

سوال

میں میزان بینک کے ذریعہ ماہانہ اقساط پرگھرخریدناچاہتاہوں،اورتمام معاملات نفع وغیرہ پہلے سے طے ہوں گے،اوراس دوران اگرمیں قسط کی ادائیگی میں تاخیر کروں گا تو وہ جرمانہ کریں گے جوجرمانہ صدقہ میں چلاجائے گا،اورپھریہ صدقہ بینک خود کرے گا،کیایہ معاملہ شرعی لحاظ سے درست ہے؟

جواب

ہماری تحقیق کے مطابق مروجہ اسلامی بینکوں کے معاملات اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے  میزان بینک کے ذریعہ (مذکورہ طریقے کے مطابق) گھرکی خریداری درست نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143805200033
تاریخ26-02-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں