بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دماغی مریض نمازی کے سامنے کھڑا ہو جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

سوال

اگر کوئی دماغی مریض نمازی کے آگے اس طرح آجائے کہ سجدہ ہی اس مریض کے سامنے ہو رہا ہو، تو کیا کرنا چاہیے؟ اگر وہ بار بار ایسا کرے تو کیا کریں؟

 

جواب

دماغی مریض کے سامنے آنے سے نماز پر  کوئی اثر نہیں پڑے گااورسامنے آنےوالابھی گناہ گار نہیں ؛ کیوں کہ مریض ہونے کی وجہ سے معذور ہے۔  البتہ ایسی جگہ نماز پڑھنے سے گریز کیا جائے جہاں یہ صورت  پیش آئے۔ نمازی کواپنےسامنےسترہ رکھنا چاہیے یا دیوار یا ستون کی اوٹ میں نمازپڑھنی چاہیے، مگر ایسا کرنے کے باوجود اگر کوئی دماغی خلل میں مبتلاشخص  سامنے آجائے تو نمازی پر گناہ نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143805200031
تاریخ25-02-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں