بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹیسٹ کے لیے غیر فطری طریقہ سے مادہ کااخراج

سوال

 بندہ اولاد کے سلسلہ میں علاج کروانا چاہتا ہے ، جس کے لیے ڈاکٹر کو مادہ منویہ کا ٹیسٹ درکار ہے ، عمومی طور پر جو مستند لیبارٹریاں ہوتی ہیں ، وہ مریض سے مادہ منویہ دینے کا مطالبہ وہیں لیبارٹری پر کرتے ہیں ، جو بالفاظ دیگر ہاتھ کے استعمال سے ممکن ہوتا ہے ، اگر ان سے مادہ منویہ گھر سے جائز صورت کے ذریعے حاصل کرکے لانے کا کہاجائے توشروع میں وہ مانتے نہیں ، بصورت دیگر وہ کہتے ہیں کہ: ہم قبول کرلیں گے لیکن رپورٹ جیسی بھی آجائے ذمہ داری آپ پر ہوگی ۔ سوال یہ ہے کہ: کیا ہاتھ کے ذریعے سے مادہ منویہ حاصل کرنا اس صورت میں جائز ہے کہ نہیں ؟ 

جواب

غیر فطری طریقہ سے مادہ منویہ کااخراج جائزنہیں ہے،مذکورہ علاج کواضطرار (مجبوری) کادرجہ نہیں دیاجاسکتاکہ جس کی بناپر ہاتھ سے مادہ کے اخراج کی اجازت دی جائے؛ اس لیے  شرعی طورپرہاتھ سے مادہ منویہ کااخراج بغرض مذکورہ جائزنہیں ہے،جائزطریقہ سے اخراج کے بعد ٹیسٹ کرواسکتے ہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143805200024
تاریخ23-02-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں