بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انگلیاں چٹخانے کا حکم

سوال

انگلیاں چٹخانے کے بارے میں کیاحکم ہے؟نمازمیں ؟مسجدمیں؟ اور عام زندگی میں؟

جواب

نمازکے لیے جب گھر سے نکلیں اور جب نماز کے انتظار میں ہوں اور نماز کے دوران  انگلیاں چٹخانامکروہ ہے۔

عام حالات میں اگر ضرورت ہو توجائزہے،بلاضرورت انگلیاں چٹخانے کوفقہاء نے عبث کاموں میں شمارکیاہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143805200017
تاریخ17-02-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں