بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بنوولنٹbenevolentفنڈ سے حج پر جانا

سوال

سرکاری ملازمین کے  بنوولنٹ(benevolent)فنڈ میں حج کے لیے جوقرعہ اندازی کی جاتی ہے،کیاشریعت کی روشنی میں وہ حج درست ہے؟کیوں کہ مذکورہ فنڈمیں بہت سارے ملازمین کے پیسے جمع ہوتے ہیں،اورمحکمہ سال میں صرف دو یاتین ملازمین کو حج پر بھیجتاہے۔

جواب

مختلف گریڈکے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ بنیاد پر  کچھ فرق کے ساتھ بنوولنٹ فنڈ کے نام سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے،اور مختلف کاموں میں یہ رقم خرچ کی جاتی ہے،مذکورہ رقم چوں کہ ملازمین کوتنخواہ سے ملنے سے قبل ہی متعلقہ ادارہ کاٹ کراپنے پاس جمع کرلیتاہے،کسی فردکاحق اس کے ساتھ متعلق نہیں ہوتا؛ اس لیے  اس فنڈپرقرعہ اندازی کے ذریعہ   جن افرادکوحج پربھیجاجاتاہے، ان کاحج درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143805200007
تاریخ08-02-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں