بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرکے توڑنے کا حکم

سوال

اللہ سے بار بار وعدہ کیا اور بار بار وعدہ توڑا کیا اس کا کوئی کفارہ ہے؟ کیا یہ وعدہ خلافی اللہ معاف کر دے گا؟ اس وعدہ خلافی کی اللہ کیا سزا دے گا؟

جواب

وعدہ کی پاس داری ایمان کے کمال کی نشانی ہے، اور وعدہ خلافی کی عادت منافقوں کا شیوہ ہے۔ ( مشکاۃ المصابیح ، ص: 15)اس لیے جب وعدہ کیا جائے، خواہ انسان سے ہو خواہ اللہ جل شانہ سے تو حتی الامکان اسے پورا کرنے کی کوشش کی جائے، کبھی وعدہ خلافی ہوجائے تو اس کا کفارہ تو نہیں، البتہ توبہ استغفار کا اہتمام کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143804200024
تاریخ16-01-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں