بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کے وضو خانہ میں لگی ٹائلیں توڑ کر نئی لگانے کا حکم

سوال

  ایک مسجد کے وضو خانہ میں بہت اچھی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں اس کو توڑ کر نئے ڈیزائن کی زیادہ اچھی ٹائلیں لگانے کا کیا حکم ہے، جب کہ اس میں مسجد کا پیسہ لگ رہا ہو جو چندہ کی مد میں آیا ہو یا وہ رقم کسی نے اسی مقصدکے لیے دی ہو یا دینا چاہ رہا ہو؟ 

جواب

مسجد کے وضو خانہ  میں لگی ہوئی ٹائلیں جب اچھی بھی ہیں اور قابل استعمال بھی ہیں ان کو توڑنا یا ہٹا کر نئی لگانا درست نہیں، خواہ اجتماعی چندےسے تبدیل کی جائیں یا کوئی شخص اپنی ذاتی رقم سے یہ کام کرے؛ کیوں کہ مالِ وقف جب تک قابلِ استعمال ہو اس کی تبدیلی جائز نہیں ہوتی۔  کذا فی رد المحتار: مسجد مبنی اراد رجل ان ینقضہ ویبنیہ احکم لیس لہ ذلک  ۔۔۔۔۔الا ان یخاف ان ینھدم( ج: ۴، ص: ۳۵۷، ط: سعید) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143804200023
تاریخ13-01-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں