بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شیئرز کے کام کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال

شیئرز کے کام کے بارے میں کیا حکم ہے؟جائزہے یاناجائز؟اگرمنع ہے تواس کی وجہ بھی دلیل کے ساتھ بتادیں۔

جواب

شیئرز کا کاروبارنہ تو مطلقاً جائزہے اور نہ ہی بالکل حرام ،بلکہ چند شرائط کے ساتھ جائز ہے،اوروہ شرائط مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔جس کمپنی کے شیئرز کی خرید و فروخت کی جارہی ہو،اس کمپنی کا  باقاعدہ وجودبھی ہو، صرف کاغذی طور پر رجسٹرڈ نہ ہو اور نہ ہی اس کمپنی کے تمام  اثاثے نقد کی شکل میں ہوں، بلکہ اس کمپنی کی ملکیت میں جامد اثاثے بھی موجود ہوں۔

۲ ۔کمپنی کا کل یا کم از کم اکثر سرمایہ حلال پرمشتمل ہو۔

۳ ۔کمپنی کا اصل کاروبار جائز ہو، حرام اشیاء کے کاروبار پر مشتمل نہ ہو۔

۴ ۔شیئرز کی خرید و فروخت میں، شرعی اعتبارسے خرید و فروخت کی تمام شرائط کی پابندی ہو۔

۵ ۔حاصل شدہ منافع کل کا کل شیئرز ہولڈرز میں تقسیم کیا جاتا ہو، (احتیاطی) ریزرو کے طور پر نفع کا کچھ حصہ محفوظ نہ کیا جاتا ہو۔

۶ ۔شیئرز کی خرید و فروخت کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ سود اور جوئے کے کسی بھی معاہدے کا حصہ بننے سے احتراز کیا جاتا ہو۔

اگر شیئرز کے کاروبار میں ان شرائط کی رعایت رکھی جائے تو یہ کاروبار جائز ہے، ورنہ نہیں۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143804200020
تاریخ12-01-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں