بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر،والد اور والدہ میں میراث کی تقسیم

سوال

میری خالہ کی بیٹی کا انتقال ہو گیا ہے، مرحومہ کی کوئی وصیت موجود نہیں ہے, مرحومہ کی کوئی اولادبھی  نہیں ہے, البتہ ان کے  والدین (دونوں)، خاوند، ایک بھائی اور ایک بہن الحمداللّہ حیات ہیں۔ مرحومہ کے مزید کوئی بھائی  بہن نہیں تھے۔ مرحومہ کی عمر 27 سال تھی۔ آپ سے گزارش ہے کے ان کے ورثا ء کی میراث کا تعین کر دیں۔

جواب

مرحومہ کے کل ترکہ کو چھ حصوں میں تقسیم کیاجائے گا،شوہرکوتین حصے ،والدہ کوایک حصہ اوروالد کودوحصے دیے جائیں گے۔بہن بھائی وراثت سے محروم رہٰیں گے۔

یعنی سوروپے میں سے پچاس روپے مرحومہ کے شوہرکو،33.33روپے والدکو اور 16.66روپے مرحومہ کی والدہ کو ملیں گے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143804200006
تاریخ03-01-2017

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں