بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چندہ سے مسجد کا وضوخانہ تعمیر کرنا

سوال

 کیامسجدکی تعمیرات میں (وضو خانہ بنانے میں)اجتماعی پیسے جوچندے میں جمع ہوتے ہیں وہ استعمال کرسکتے ہیں؟تعمیرات میں کون سے مال کااستعمال جائزہے اورکون سے مال کااستعمال ناجائزہے؟

جواب

مسجد کا وضوخانہ مسجدکی ضروریات اور مصالح میں داخل ہے؛ اس لیے اجتماعی چندہ وضوخانے کی تعمیر میں لگاسکتے ہیں۔مسجدکاعمومی چندہ (زکاۃ اور واجب صدقات کے علاوہ)مسجدکی تمام ضروریات بشمول مسجداور وضوخانہ وغیرہ کی تعمیرات میں لگاناجائزہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143803200040
تاریخ30-12-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں