بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوستوں کو از راہ مزاح کہنا: تم میری بیویوں کو طلاق ہے، کیا اس سے حقیقی بیوی کو طلاق ہو گی؟

سوال

میرے چند دوست ہیں جن کو میرے ساتھ شدت تعلق کی وجہ سے دیگر دوست مزاح کرتے ہوئے انہیں میری بیوی کہتے ہیں، کیوں کہ میں ان دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہوں، گزشتہ ہفتے کچھ جھگڑے کی وجہ سے میں نے اپنے ان دوستوں کو جن کو میرے ساتھی میری بیوی کہتے ہیں، یوں کہا کہ: میں نے تم بیویوں کو طلاق دی۔ یہ بات کہتے ہوئے میرے ذہن میں میری حقیقی بیوی کا کوئی تصورتک نہیں تھا نہ ہی وہ موضوع بحث تھی۔ کیا ان الفاظ کے کہنے سے میری اصلی بیوی کے ساتھ میرے تعلقات میں کوئی خرابی ہوئی ہے؟ میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور آئندہ اس طرح نہ کروں گا۔

جواب

آپ کے اپنے دوستوں کو کہے گئے کہ ان الفاظ سے کہ: "میں نے تم بیویوں کو طلاق دی "،  آپ کی بیوی پرطلاق واقع نہیں ہوئی؛ کیوں کہ آپ نے "تم" کا لفظ استعمال کیا ہے اور دوستوں کو طلاق نہیں ہوسکتی؛ کیوںکہ طلاق کا محل بیوی ہے،دوست نہیں۔ تاہم ایسے مزاح اور ایسے الفاظ کے کہنے سے پرہیز لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143803200001
تاریخ03-12-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں