بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبل القبض بائع کو وکیل بنانا

سوال

اگر مشتری مبیع پر قبضہ سے پہلے بائع کو کہے کہ اب یہ میری مبیع آگے کسی کو میری طرف سے کرایہ پر دے دو تو کیا بائع کا مشتری کے حکم سے آگے کسی کو کرایہ پر دینا صحیح ہے؟ کیا اس میں قبل القبض مبیع میں تصرف کرنا نہیں پایا جا رہا؟

جواب

مشتری کے لیے خریدی ہوئی چیز پر قبضے سے پہلےہی بائع کو خریدی ہوئی چیز  آگے کرائے پر دینے کا وکیل بنانا ٹھیک نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200044
تاریخ16-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں