بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکانوں کے آگے ٹھیلے لگانا

سوال

ہمارے شہر میں یہ عام ہے کہ ٹھیلے والا جس دکان کے آگے کھڑا ہوگا ،دکاندار اس سے ہردن کا کرایہ لیتا ہے ۔ وہ جگہ تو سرکاری ہے، گزرنے کی جگہ ہے۔ فری میں کھڑے ہونے نہیں دیں گے ،اس لیے کہ دکان کے آگے جگہ کھلی ہو تو بہتر ہے تا کہ گاہکوں کو اچھی طرح دکان نظر آئے۔ دکان کے آگے کھڑا ہونے کی وجہ سے دکان دار کے لیے ٹھیلے والے سے کرایہ لینا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

دکانوں کے آگے سرکاری جگہ جو دوکانوں کی سرکاری حدود میں نہیں آتی وہاں اگر کوئی  ٹھیلہ لگاتا ہے تو دوکان دار اس سے کچھ وصول نہیں کرسکتا۔البتہ اگروہ جگہ عام گزرگاہ ہے اور وہاں ٹھیلہ لگانے سے لوگوں کی آمدورفت میں خلل واقع ہوتا ہے تووہاں ٹھیلہ لگانا ناجائز ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200037
تاریخ11-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں