بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسبوق کا مغرب کی نماز میں پہلا قعدہ بھول جانا

سوال

مسبوق مغرب کی نماز کی آخری رکعت میں پہنچا۔ امام کے سلام کے بعد کھڑے ہوکر جو دو رکعات پڑھنی تھیں ان میں سے پہلی میں دو سجدوں کے بعد التحیات کے لیےنہ بیٹھا۔

1: اگر غلطی میں نہ بیٹھا تھا تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوا یا نہیں؟ 2: اگر جان بوجھ کر نہ بیٹھا تھا تو کیا حکم ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگرغلطی سے نہیں بیٹھا تو آخرمیں سجدہ سہو کرنے سے نماز درست ہوجائے گی۔اگر جان بوجھ کرنہیں بیٹھا تھا تو گناہ گارہ ہوا،سجدہ سہو واجب تھااور سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں وقت کے اندر نماز دوبارہ پڑھی جائے گی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200022
تاریخ04-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں