بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ سالوں کی زکاۃ کی ادائیگی میں کس قیمت کا اعتبار ہوگا؟

سوال

ایک عورت نے چار سال اپنے سونے کی زکاۃ نہیں نکالی، اب گزشتہ سالوں کی زکاۃ کس حساب سے دے؟ موجودہ قیمت کے حساب سے یا گزشتہ ہر سال وجوب کے وقت کے حساب سے؟

جواب

زکاۃ کی ادائیگی آج کے حساب ہوگی،زکاۃ یوں اداکریں کہ: مثلاً دولاکھ روپے سونے کی مالیت ہے تو پانچ ہزارزکاۃ اداکردیں پھر اگلے سال کی ایک لاکھ پچانوے ہزار روپے کی اداکریں، اسی طرح بقیہ سالوں کی اداکریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200013
تاریخ04-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں