بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قبضے سے پہلے کسی خریدی ہوئی چیز کو کرائے پر دینے کا حکم

سوال

1: کوئی چیز خریدنے کے بعد قبضہ سے پہلے اس چیز کو کرایہ پر دے سکتا ہوں یا نہیں؟

2: یا جس آدمی سے لی ہے اس ہی کو کہوں کہ اب یہ میری چیز آگے کسی کو کرایہ پر دے تو جائز ہے کہ نہیں؟ جب کہ میں نے ابھی تک قبضہ نہیں کیا۔

جواب

کسی خریدی ہوئی چیز کو قبضے سے پہلے کرائے پر دینا یااس مقصد کے لیے بائع کو وکیل بنانادرست نہیں. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200010
تاریخ03-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں