بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 جُمادى الأولى 1448ھ 27 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو طمانچہ مارنا

سوال

کسی بھی بحث مباحثہ میں غصہ میں آکر بیوی کو طمانچہ مارنا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اسی طرح اعضاء میں سے چہرے کو مجمع المحاسن بنایا ہے، چہرہ چاہے انسا ن کا ہو یا حیوان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مارنے اور اس کو داغنے سے منع فرمایا ہے،لہذاغصہ میں  بھی بیوی کے چہرے پر طمانچہ مارنا جائز نہٰیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143802200007
تاریخ03-11-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں