بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

خون کا عطیہ دینے کا حکم

سوال

کیا خون کا عطیہ دینا جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو کیا خون کا عطیہ دینے سے ثواب ملے گا یا نہیں؟ بعض این جی اوز خون اکھٹا کرتی ہیں انہیں خون کا عطیہ دینے میں ثواب کی امید ہے یا نہیں؟

جواب

خون انسانی بدن کا جزو ہے، اور انسان کے لیے اپنے جسم کا کوئی بھی جزو اپنے اختیار سے عطیہ دینا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی مریض اضطراری حالت میں ہو اور ماہر ڈاکٹر کی نظر میں خون دیئے بغیر اس کی جان جانے یا مرض طویل ہوجانے کا اندیشہ ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہ ہو تو ایسی صورت حال میں خون دینا جائز ہے اور اس طرح ایک مسلمان کی جان بچانے پر ثواب کی بھی امید ہے۔ کسی این جی اوز کے متعلق اگر تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ وہ خون کو مستحق مریضوں کے علاج کے لیے فراہم کرتی ہے، تو اس کو خون دینا جائز ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143801200035
تاریخ25-10-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں