بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا باکرہ کی خاموشی اجازت شمار ہوتی ہے؟

سوال

1: باکرہ بالغہ دلہن سے اگر باپ ولی نکاح کی قبولیت کا پوچھے اور دلہن خاموش رہے تو یہ خاموشی ہاں میں شمار ہے یا نہیں؟

2: باپ ولی مولوی صاحب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ گیا اور باکرہ بالغہ دلہن سے نکاح کے وقت  قبولیت کا پوچھنے اور کوئی محرم یا غیر محرم رشتہ دار گیا۔ کیا اب بھی دلہن کی خاموشی ہاں میں شمار ہوگی؟

جواب

کسی شخص کے ساتھ نکاح کی اجازت لیتے ہوئے باکرہ بالغہ لڑکی کا خاموش رہنا شرعاً اجازت شمار ہوتا ہے اگرباپ یا ولی اقرب اجازت لے رہا ہو ، اگر باپ یا ولی اقرب کے علاوہ  کوئی اور فرداجازت لےرہا ہو تو باکرہ کی خاموشی اجازت شمار نہیں ہوگی ،صراحتاً اس کا اجازت دینا معتبر ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(فإن استأذنها غير الأقرب) كأجنبي أو ولي بعيد (فلا) عبرة لسكوتها (بل لا بد من القول كالثيب)."

(کتاب النکاح، باب الولي، ج:3، ص:62، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143801200019
تاریخ15-10-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں