بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم جائے ملازمت میں قصر کرے یااتمام؟

سوال

 مجھے اپنے شہر سے ایک سو کلومیٹر دور شہر میں ڈیوٹی ملی ہے۔ وہاں فلیٹ کرایہ پر لے لیا اور سامان بھی وہاں مستقل رکھ دیا۔ ایک مفتی صاحب نے بتلایا تھا کہ ایک بار نوکری والے شہر میں پندرہ دن کی نیت سے جاکر پندرہ دن رہوں۔ اس کے بعد چونکہ نوکری والے شہر میں کرایہ کا فلیٹ اور سامان وہاں رکھا ہوا پھر بھلے میں ہر ہفتہ پانچ دن نوکری والے شہر اور دو دن اپنے شہر میں رہوں تو دونوں جگہ پوری نماز پڑھوں گا۔ اس لیے پہلی بار پندرہ دن کی نیت سے گیا لیکن اچانک دس دن بعد اپنے شہر دو دن کیلئے واپس آنا پڑا۔ اب میں نوکری والے شہر آئندہ ہر ہفتہ پانچ دن کیلئے جایا کروں گا تو وہاں پوری نماز پڑھوں گا یا قصر؟

جواب

آپ کااپناشہرتوآپ کے لیے وطن اصلی ہے جہاں آپ مکمل نمازپڑھیں گے ،مگر جس جگہ آپ کوڈیوٹی ملی ہے یعنی جہاں ملازمت کرتے ہیں، وہاں بھی جب جائیں گے تومقیم  کہلائیں گے اورمکمل نمازپڑھیں گے ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143801200006
تاریخ08-10-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں