بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کھانے کے شروع اور آخر میں نمک کھانا

سوال

کیاکھاناکھانے کے شروع اورآخرمیں تھوڑاسانمک کھاناسنت ہے؟کسی روایت سے ثابت ہے یانہیں؟

جواب

نمک سے کھانے کے آغازاوراختتام کوفقہائے کرام نے کھانے کے آداب میں شمارکیاہے،اوراس کی بنیادبیہقی شریف کی روایت ہے جوحضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ:’’جس شخص کے کھانے کی ابتداء نمک سےہووہ ستربیماریوں سے محفوظ رہتاہے‘‘[شعب الایمان 8/100،ط:ریاض]

نیزسنن ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تمہارے سالنوں کا سردار نمک ہے‘‘۔

البتہ کھانے کی ابتداء اورانتہاء نمک کے ساتھ کرنے کوسنت نہیں کہاجاسکتا،اوراس سلسلہ میں نقل کی جانے والی روایات محدثین کے اصولوں کے مطابق درست نہیں ہیں۔تفصیل کے ملاحظہ فرمائیں،احسن الفتاوی9/91،ط:سعید اورامدادالفتاویٰ4/113،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143801200005
تاریخ07-10-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں