بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عاقلہ بالغہ کا غیرکفو میں نکاح کرنے کا حکم

سوال

بالغہ لڑکی بغیرولی کی اجازت کے غیرکفومیں شادی کردے تونکاح منعقد یاباطل ہوجائے گا،لیکن ولی کوخیارفسخ ہوگا؟فتویٰ کس پرہے؟

جواب

عاقلہ بالغہ کانکاح غیر کفو میں منعقد ہوجائے گا،اگراولیاء راضی ہوں توبرقراررہے گااوراگر اولیاء راضی نہ ہوں فسخ کراناچاہیں توانہیں حق حاصل ہوگا۔الغرض نکاح منعقد غیر لازم ہوگا۔

بدائع میں ہے:

حتی لوزوجت نفسھا من غیر کف عن غیررضاء الاولیاء لایلزم ،وللأولیاء حق الاعتراض۔(2/318،کتاب النکاح)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143712200030
تاریخ30-09-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں