بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمیٹی ممبران کے درمیان قرعہ اندازی کرنے کا حکم

سوال

ہم لوگ کمیٹی ڈالتے ہیں، جس کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ ہر ممبر مہینے میں 5000 ہزار روپے جمع کراتا ہے اور 10 ممبر ان ہوتے ہیں، پہلی کمیٹی چیئرمین کی ہوتی ہے اور پھر باقی ممبران کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ہیں، جس کا جو بھی نمبر آیا وہی نمبر ہے چاہے دوسرا ہو یا دسواں، کیا یہ طریقہ قرعہ اندازی درست ہے؟

جواب

کمیٹی ڈالنا اور مذکورہ طریقہ کے مطابق قرعہ اندازی کرنا شرعا اس کی گنجائش ہے. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143712200027
تاریخ27-09-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں