بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرحوم کی وصیت کے بغیر نماز روزوں کے فدیہ کا حکم

سوال

ہمارے والد صاحب کا ستتر برس کی عمر میں انتقال ہوگیا، ان کے ذمہ پچاس سال کی نمازیں، روزے اور زکوۃ باقی تھی، انہوں نے ترکہ سے فدیہ کی کوئی وصیت نہیں کی کیا ان کا فدیہ ہم ورثا پر لازم ہے؟ اور فدیہ کی رقم بھی بتادیں.

جواب

مذکورہ صورت میں جب مرحوم نے فدیہ کی وصیت نہیں کی تو شرعا ورثا پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثا از خود باہمی رضامندی سے ادا کردیں تو امید ہے کہ مرحوم آخرت کی باز پرس سے بچ جائیں گے، وتر نمازسمیت ہر فرض نماز کا اور ہر روزے کا ایک فدیہ ہوگا، اور ایک فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہوتا ہے۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143712200023
تاریخ25-09-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں