بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا خطیبِ حج کا مسافر ہونا ضروری ہے؟

سوال

مفتیانِ کرام کی رائے مطلوب ہے کہ امسال خطبۂ حج شیخ عبدالرحمان السدیس نے پڑ ھا اور نمازِ ظہر اور عصر کی جماعت بھی کرائی۔ کیا خطیب حج کے لئے مسافر ہونا ضروری ہے؟ اور جب شیخ سدیس مکی ہیں تو انہوں نے قصر نماز کیوں پڑھائی؟

جواب

خطیبِ حج کے لیے مکی ہونا ضروری نہیں، مقیم خطیب بھی خطبہ دے سکتا ہے. رہی یہ بات کہ شیخ عبدالرحمن سدیس نے نمازوں میں قصر کیوں کیا؟ تو شیخ محترم فقہ حنبلی سے وابستہ ہیں اور فقہ حنبلی کی رو سے حج کے اس موقع پر نمازوں میں قصر کیا جاتا ہے اور یہ قصرِ حج کہلاتا ہے، واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143712200005
تاریخ11-09-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں