بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میراث میں حصے

سوال

سن ۲۰۱۵ میں میرے دادا کا انتقال ہوا، اور انہوں نے ترکے میں دو جائیدادیں چھوڑی ہیں، مجھے پوچھنا یہ ہے کہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کا جو حصہ اس جائیداد میں ان کی زندگی میں تھا کیا وہی ان کے مرنے کے بعد بھی ہوگا؟

 

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ جائیداد جب مرحوم دادا کی مکمل ملکیت تھی، تو ان کی زندگی میں ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کا  اس جائیداد میں کوئی حصہ نہیں تھا، دادا کے فوت ہو جانے کے بعد اس جائیداد کی تقسیم میں بیٹیوں کو  اکہرا اور بیٹوں کو دوہرا حصہ ملے گا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143711200032
تاریخ25-08-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں