بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جس عورت سے نکاح کاارادہ ہواسے ایک نظر دیکھنا

سوال

کیانکاح سے پہلے لڑکالڑکی کوایک نظردیکھ سکتاہے؟اگرلڑکی والے اپنی بیٹی کودکھانے پرراضی نہ ہوں تو کیالڑکاانکارکرسکتاہے؟

جواب

نکاح سے قبل لڑکےاورلڑکی کاایک دوسرے کوایک نگاہ دیکھنادرست ہے اوراحادیث میں اس کاذکرموجودہے۔چنانچہ ترمذی شریف میں ہے:

’’حضرت  مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک ایک خاتون کے لئے نکاح کاپیام دیا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایاکہ تم نے اسے دیکھاہے؟میں نے عرض کیاکہ میں  نے دیکھاتونہیں ہے،توآپ نے فرمایاکہ ایک نظردیکھ لو،یہ اس مقصد کے لئے زیادہ مفیدہوگاکہ تم دونوں میں الفت ومحبت اورخوشگواری رہے ‘‘۔(معارف الحدیث7/450،دارالاشاعت)

البتہ مستقل ملاقات کانظام نہ بنایاجائے۔اگرلڑکی والے اپنی بچی لڑکے کونہیں دکھاناچاہتے بجائے لڑکے کے دیکھنے کے خاندان کی مستورات،بہن ،والدہ وغیرہ کوبھیج دیاجائے وہ لڑکی کودیکھ کراطمینان کرلیں،جوبھی طریقہ اختیارکیاجائے اس بات کالحاظ رکھاجائے کہ لڑکی کویااس کے گھروالوں کوگرانی اورناگواری نہ ہو۔زیادہ بہتر یہی ہے  کہ چھپ کر دیکھنے کی کوئی تدبیر کرلی جائے تاکہ  انکار کی صورت میں انہیں ناگوارنہ گزرے۔لڑکی کے ایک نظرنہ دکھانے پر اگر لڑکا رشتے سے انکار کرتا ہے تو چونکہ ابھی رشتہ طے نہیں ہوا ہے اس لیے وہ حق رکھتا ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143711200010
تاریخ10-08-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں