قادیانی، اہل تشیع اور آغاخانیوں کے ساتھ کاروباری معاملات کا حکم
سوال
کیا قادیانی، اہل تشیع اور آغاخانیوں کے ساتھ کاروبار کرسکتے ہیں؟ ان میں سے کن کے ساتھ اجازت ہے اور کن کے ساتھ نہیں؟ اور کس وجہ سے اجازت ہے اور کس وجہ سے نہیں، یہ بھی بتائیں؟
جواب
۱)قادیانی چوں کہ شرعی احکام کی رو سے کافر محارب، زندیق اورملکی آئین کی روسےغیرمسلم ہیں اس بناء پر ان کے ہاں ملازمت کرنا یا کاروباری معاملات کرنا نا جائز اور حرام ہے۔
۲)اہل تشیع اور آغاخانیوں کےساتھ فی نفسہ معاملات کرنے میں حرج نہیں البتہ اگر کوئی خارجی محظورلازم آتا ہو مثلا اپنے عقائد بگڑنے کا اندیشہ ہو توپھر ان کے ساتھ معاملات سے اجتناب چاہیے۔واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

