بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

درود تاج ، درود لکھی کے پڑھنے کا حکم

سوال

جناب مفتی صاحب یہ درود تاج،درود لکھی،درود اکبر کا پڑھنا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی اس کے بارے میں تھوڑی سی رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1۔درود تاج میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں،اس لیے اس کے پڑھنےسے اجتناب کرناچاہیے۔مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ اس سے متعلق لکھتے ہیں:

''ابتداءً معلوم نہیں کس نے اس درود کوایجادکیاہے،جوفضائل عوام جہال بیان کرتے ہیں وہ محض غلط اورلغو ہیں،احادیث میں جو درود وارد ہیں وہ یقیناً درود تاج سے افضل ہیں،نیز اس میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں اس لیے اس کوترک کرناچاہیے۔(فتاوی محمودیہ3/122)

2۔درود لکھی اور درود اکبرکے الفاظ اگرچہ درست ہیں ،تاہم چونکہ یہ کسی سندسے ثابت نہیں ،اس لیے بجائے ان کے درود ابراہیمی پڑھنے کااہتمام کیاجائے۔(آپ کے مسائل اور ان کاحل3/515۔کفایت المفتی 2/101)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143710200015
تاریخ19-07-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں