بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آہستہ آواز سے طلاق دینے کا حکم

سوال

میں نے سنا ہے کہ جو شخص اتنی آہستہ آواز سے اپنی بیوی کو طلاق دے جو قریبی شخص نہ سن سکے تو اس طرح طلاق واقع نہیں ہوتی، کیا یہ بات سچ ہے یا نہیں ؟

جواب

فقہائے احناف کے نزدیک فتوی کی رو سے جب کوئی شخص اتنی آواز سے اپنی بیوی کو طلاق دے جسے صرف وہ خود سن لے خواہ قریبی شخص نہ سن سکے، تو طلاق واقع ہوجاتی ہے. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143709200037
تاریخ30-06-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں