آہستہ آواز سے طلاق دینے کا حکم
سوال
میں نے سنا ہے کہ جو شخص اتنی آہستہ آواز سے اپنی بیوی کو طلاق دے جو قریبی شخص نہ سن سکے تو اس طرح طلاق واقع نہیں ہوتی، کیا یہ بات سچ ہے یا نہیں ؟
جواب
فقہائے احناف کے نزدیک فتوی کی رو سے جب کوئی شخص اتنی آواز سے اپنی بیوی کو طلاق دے جسے صرف وہ خود سن لے خواہ قریبی شخص نہ سن سکے، تو طلاق واقع ہوجاتی ہے. واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143709200037
تاریخ30-06-2016

