وترکی نماز ایک سلام کے ساتھ یا دوسلام کے ساتھ
سوال
حرمین میں اگر جماعت کےساتھ وترپڑھنے ہوں توکیاکرناچاہیے؟
جواب
احناف کے نزدیک راجح یہی ہے کہ وترکی نمازتین رکعات ایک سلام کے ساتھ اداکی جائیں۔لیکن اگرحنفی شخص کسی ایسے امام کی اقتداکرے جودوسلاموں کے ساتھ وترپڑھاتاہوتومتاخرین محققین کے قول کے مطابق دوسلاموں کے ساتھ بھی وتراداہوجاے گی ،اعادہ کی ضرورت نہیں لہذا حرمین میں امام کے پیچھے امام کے طریقے کے مطابق وتر کی اجازت ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
143709200009
تاریخ10-06-2016

