بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایکوساؤنڈ سسٹم پر نمازمیں قرات کرنا

سوال

نمازمیں قرات اگر اسپیکر میں ہواوراس میں ایکوساؤنڈ لگاہواہوآیااس کے استعمال کرنے میں نمازمیں کوئی مضائقہ ہے یانہیں؟

جواب

نماز میں ضرروت کے بقدر اسپیکرکااستعمال درست ہے،ضرورت سے زائدآواز بلند کرنے کوفقہاء نے مکروہ قراردیاہے۔ایکوساؤنڈ کی صورت میں عموماً آواز ضرروت سے زیادہ بلندبھی ہوتی ہے اوربسااوقات آوازکے تکرارکی بناپرحروف کی اصلی شکل بھی برقرارنہیں رہتی ،اس لیے نمازمیں ایکوساؤنڈکے استعمال سے اجتناب کرناچاہیے۔فتاویٰ شامی میں ہے:

صرح في السراج بأن الإمام إذا جهر فوق الحاجة فقد أساء ا هـ والإساءة دون الكراهة ولا توجب الإفساد.(1/589)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143709200008
تاریخ10-06-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں