بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلموں کی مدد کس مد سے جائز ہے؟

سوال

واجبی صدقات تو غیر مسلموں کو نہیں دیے جا سکتے، کیا نفلی صدقات دیے جا سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پاکستان میں موجود غیرمسلموں کی امداد حکومت کس مد میں سے کر سکتی ہے؟ کیا کوئی مد علیحدہ سے مقرر ہے یا کہ ہر شخص اپنے طور پہ انہیں خیرات کرے؟

جواب

غیر مسلم فقیر ومحتاج کو نفلی صدقات دے سکتے ہیں۔حکومت غیر مسلموں کی امداد زکوۃ کے علاوہ کی مد سے کرسکتی ہے۔فقہ ِاسلامی میں یہ تصریح  ہے کہ صدقات ِواجبہ (مثلاً زکوٰة ، عشر) کے علاوہ بیت المال کے محاصل کا تعلق جس طرح اسلامی قلمروکی مسلمان رعایا کی ضروریاتِ زندگی سے وابستہ ہے اسی طرح غیر مسلم (ذمی) کی حاجات و ضروریات سے بھی متعلق ہے،نیز انفرادی طور بھی کوئی غیر مسلم ضرورت مند ہو توزکوۃ کے علاوہ کسی مدسے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔ کذا فی کتاب الخراج لابی یوسف رحمہ اللہ ، س: ۱۲۶، مطبوعہ: قاہرہ، وفی  البحر: وصح دفع غیر الزکاۃ الی الذمی واجبا کان او تطوعا(ج: ۲،ص: ۲۴۲)۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 143709200006
تاریخ09-06-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں