بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کنویں کی بورنگ کرتے ہوئے زمزم کا پانی ڈالنے کا حکم

سوال

اگر کسی گهر میں بورنگ کی جارہی ہو اور گهر کے لوگ اس میں برکت کے لیے زمزم ڈالدیں تو کیسا ہے ؟ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ زمزم کی توهین ہے کیونکہ وہ پانی باتھ روم، غسل خانے اور کچن کے بیسن غرض ہر جگہ جائے گا اور استعمال ہوگا. اور اس کی وجہ سے زمزم کی توهین هوگی کیونکہ زمزم کا ایک قطرہ بهی اگر عام پانی میں ملا دیا جائے تو اس پورے پانی میں زمزم والی صفات پیدا ہوجاتی ہیں. (نوٹ : یہ صفات والی بات کو اب سائنس بهی مانتی ہے اور سائنس دانوں نے تجربات کر کے بهی دیکهے ہیں. ) برائے مہربانی وضاحت فرمادیں کہ اس کی حقیقت اور شرعی حیثیت کیا ہوگی اگر زمزم بورنگ میں ڈال دیا جائے. جزاک اللہ خیرا.

جواب

کنویں کی بورنگ کرتے ہوئے برکت کے لیے زمزم کا پانی ڈالنا جائز ہے، فقہا نے زمزم سے وضو اور غسل تک کرنے کی اجازت دی ہے، چنانچہ پچھلے دور میں اس پر عمل بھی عام تھا. بورنگ کرتے ہوئے جو زمزم کا پانی ڈالا جاتا ہے اس میں تو محض تبرک ہی مقصود ہوتا ہے، اور کنویں کے جاری پانی میں اس کے اجزا بھی زیادہ دیر تک باقی نہیں رہتے. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143708200052
تاریخ01-06-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں