بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قعدہ اخیرہ میں التحیات کے بعد تاخیر کی بنا سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟

سوال

مفتی حبیب الرحمن صاحب نے اپنی کتاب " سجدہ سہو کے مسائل" کے صفحہ نمبر 63 پر لکھا ہے: "کسی نے قعدہ اخیرہ میں التحیات، دروشریف اور دعا پڑھ لینے کے بعد سلام نہیں پھیرا، بلکہ کچھ سوچ میں دیر تک خاموش رہا تو اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہے.(شامی : 707) اور مفتی انعام الحق قاسمی صاحب نے اپنی کتاب "نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا" کی جلد ایک میں صفحہ نمبر 218 پر لکھا ہے: " اگر قعدہ اخیرہ مین التحیات پڑھ کر دیر تک خاموش رہا تو اس پر سجدہ واجب ہوگا". ان دونوں مسائل کی وضاحت فرمادیجیے.

جواب

اگر نماز کے دوران بھول کر کسی کام کے کرنے یا سوچنے کی وجہ سے نماز کے کسی فرض یا واجب میں ایک رکن کی مقدار (یعنی تین بار سبحان اللہ پڑھنے کے بقدر) دیر لگ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوجاتا ہے، اس لیے اصولی طور مفتی بہ قول کی بنا پر مذکورہ صورت میں التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ لینے کے بعد ایک رکن کی مقدار خاموش رہنے سے سلام میں تاخیر کی بنا پر سجدہ سہو واجب ہوگا، مفتی حبیب الرحمن صاحب کی کتاب کو ملاحظہ کیا گیا لیکن اس میں مسئلہ کی تائید کے لیے مذکور شامی کا حوالہ نامکمل ہے، جبکہ شامی کے متعلقہ باب سجود السہو میں مذکور جزئیات سے اس صورت میں سجدہ سہو کا وجوب ہی معلوم ہوتا ہے. واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143708200028
تاریخ20-05-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں