بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تمام امور تقدیرالہی کے تابع ہیں

سوال

مجھے یہ معلوم کرناتھاکہ کیاانسان کی شادی کاوقت مقررہوتاہے؟اورکیایہ بھی مقررہوتاہے کہ شادی کس وقت کہاں اور کس سے ہونی ہے؟یااس معاملہ میں انسان صاحب اختیارہے؟

جواب

شادی وغیرہ جواموربھی انسان بجالاتاہے، یہ سب تقدیرالہی کے مطابق ہوتے ہیں لیکن انسان پتھروں کی مانندچونکہ مجبوروبے بس نہیں اس لیے کوشش اوراچھی تدبیراختیارکرنے کے ہم مکلف ہیں۔بہرحال انسان نکاح کس سے اور کس جگہ اورکب کرے گا یہ سب کچھ  اللہ تعالی کے علم میں ہے مگر انسان اس پر مجبور نہیں اور کوشش کا وہ مکلف ہے۔فقط واللہ اعلم

(کفایت المفتی1/146)

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143707200032
تاریخ03-05-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں