بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ملازم کا کمپنی کے کسٹمر کو کسی اور کے پاس بھیجنا

سوال

اگرکوئی نا جائزکام آئے،یعنی کوئی شخص کمپنی سے  دھوکہ سے کمپنی کے کسٹمر کواپناکسٹمربنائے،اوراس کسٹمرکاکام ہم سے کروائے،کیایہ جائزہوگا؟ کیونکہ ہم نے دھوکہ نہیں دیابس جوکام ملااس کوپوراکیا اورمحنت سے پیسے کمائے،نیزاس کسٹمرکوڈیل کرناکیساہے؟

جواب

اگرکوئی شخص کسی کمپنی کاملازم ہے تواس  کمپنی ملازم کے لیے جائزنہیں کہ کمپنی سے منسلک کسٹمرکوکسی اورکاکسٹمربنائے اور اس پر کمیشن وصول کرے کیونکہ یہ خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔حدیث شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:’’جوشخص خیانت کاکام کرے وہ مجھ سے نہیں ہے(مسلم)‘‘یعنی مجھ سے تعلق رکھنے والا نہیں،اورمیں اسے اپنے آدمیوں میں شمارنہیں کرتا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143707200025
تاریخ29-04-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں