بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا وطن اصلی ایک سے زائد ہوسکتے ہیں؟

سوال

کیا وطن اصلی ایک سے زیادہ ہوسکتے ہیں؟ اور کیا اگر کسی کے پاس دوہری شہریت ہو تو کیا وہ دونوں ممالک اس کے لیے وطن اصلی ہونگے ؟؟

جواب

فقہا نے وطن اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ انسان کی جائے ولادت یا جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی تو یہ جگہ وطن اصلی بن جاتی ہے، اس تعریف کی رو سےاگر کسی شخص کی دو یا دوسے زیادہ جگہوں پر عمر گذارنے   کی نیت ہو کہ کبھی ایک جگہ کبھی دوسری جگہ لیکن ان سے مستقل کوچ نہیں کرنا  تو یہ ساری جگہیں اس کے لیئے وطن اصلی ہی کے حکم میں ہونگی، یہی حکم دہری شہریت کے حامل افراد کا بھی ہےکہ اگر دونوں ہی جگہ رہنے کی نیت ہے تو دونوں جگہیں اس شخص کے لیئے وطن اصلی کےحکم میں ہونگی۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143707200021
تاریخ26-04-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں