بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ذہنی عارضے میں مبتلا شخص کی طلاق کا حکم

سوال

ایک ذہنی حالت کامریض شخص جس کادماغی توازن خراب رہتاہو،اس کے طلاق دینے سے طلاق ہوجائے گی؟اوراس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی اورگھروالوں کوبھی جن بھوت سمجھتاہو،اورڈر ،خوف کی وجہ سے اس کی حالت کنٹرول سے باہرہوجاتی ہو۔وہ سمجھتاہے کہ سرسے پاوں تک کسی نے اسے کنٹرول کررکھاہے،اپنی مرضی سے نہ کچھ کھاسکتاہوں نہ سوسکتاہوں،نہ کوئی اورکام کرسکتاہوں،اورگھروالے مجھے ہوائی چیزیں بن کرڈراتے ہیں۔ان حالات کی بناپروہ اپنی بیوی کوبھی بہت پریشان کرتاہے ،کبھی بلاوجہ ہنستاہے اورکبھی گھنٹوں روتارہتاہے۔وہ اپنے ساتھ قرآن پاک رکھاہے واش روم بھی ساتھ لے جاتاہے،کبھی خود کوبھی نقصان پہنچاتاہے،کئی جگہوں پراس شخص کودم وغیرہ کروانے بھی لیکرگئے ہیں ،کیاایسے شخص کی طلاق واقع ہوجائے گی؟

جواب

مذکورہ کیفیت کے حامل شخص کی طلاق واقع نہ ہوگی البتہ اگر کبھی کامل افاقہ ہواور طلاق دے تو ہوجائےگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

ولایقع طلاق المولیٰ علی امراۃ عبدہ والمجنون والصبی والمعتوہ والمبرسم والمغمی علیہ والمدہوش ۔(3/242ط:سعید)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143706200016
تاریخ22-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں