بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرام آمدن والے شخص کے ہاتھ مال فروخت کرنا

سوال

 زید نے عمرپرموٹرسایکل فروخت کیا اورعمرنے دوسرے پرفروخت کیا ،اب زیدکو معلومات ہو‏ئی کہ عمرکے اکثرآمدنی حرام ہے :یعنی رشوت اورچوری سےہے۔ اب دریافت طلب امریہ ہے کہ زید عمرسے ابھی تک پیسے نہیں لیا ،لیکن وہ اب چاہتاہے کہ اپنی پیسے لے لیں ۔ توشرعاً کیساہےزیداپنی پیسےلےسکتاہے یانہیں ؟ اگرنہیں لے سکتاہے توزید کیلئے ‏شرعاً کیاحکم ہے ؟ 

جواب

ضابطہ یہ ہے کہ حرام کمانے والے شخص کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کرنا جائز ہے مگر مال حرام سے قیمت وصول کرنا جائز نہیں، بلکہ خریدار سے حلال مال کا مطالبہ کیا جائے۔ یہ حکم اس وقت ہے کہ جب بیچنے والے کو پہلے سے معلوم ہو کہ خریدار کی کل یا اکثر آمدن حرام ہے، اور اگر لاعلمی میں اس کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کردی تو اس کی قیمت لینا جائز ہے۔  صورت مسولہ میں چونکہ زید کو عمر کی آمدن کے حرام ہونے کا بعد میں علم ہوا ہے اس لیئے اب اس سے قیمت وصول کرسکتا ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143706200006
تاریخ16-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں