بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں تراویح سنانے والے کو اجرت دینا اور اس کے جواز کا حیلہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لوگوں کا حافظ کو تراویح پر اجرت دینا امامت کے حیلہ سے یعنی لوگ حافظ سے ابتدا میں کہے کہ تراویح دینے میں آپ ہمارے امام ہونگے کیا اس طرح عقد کرنے کے بعد اجرت تراویح پر لینا جائز ھوجائےگا؟

جواب

رمضان المبارک میں قران سنانے والے حافظ کو صرف تراویح کا امام مقرر کرکے اجرت دینا اور لینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر قران سنانے والے حافظ کے ذمہ رمضان المبارک کی ایک آدھ نماز کی امامت بھی لگادی جائے تواس حیلہ کی وجہ سے تنخواہ لینا جائز ہوگا، کیوں کہ امامت کی اجرت لینا جائز ہے۔ واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143706200005
تاریخ16-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں