بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرفیوم کے استعمال کا حکم

سوال

کیاایسے پرفیوم استعمال کرسکتے ہیں جن میں الکحل کی قلیل مقدارشامل ہو؟کیااسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب

الکحل کئی قسم کاہوتاہے ،بعض پاک اوربعض ناپاک۔لہذالکحل اگر انگور یا کھجور سے کشید کرکے بنایا گیا ہو تو وہ ناپاک اور حرام ہے اوراس کااستعمال درست نہیں۔ اگر ان کے علاوہ کسی اور چیز سے بنایا گیا ہے تو اس کا اتنا استعمال جائز ہے جو نشے کی حد تک نہ پہنچتا ہو۔آج کل زیادہ تر الکحل انگور اور کھجور کے علاوہ اورچیزوں جیسے سبزیوں،گنے اور پٹرول وغیرہ سے بنایا جاتا ہے، اس لیے ایسی خوشبو اور پرفیوم کا استعمال جائز ہے جس میں الکحل ملا ہوا ہو۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143705200035
تاریخ10-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں