بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غائبانہ نمازجنازہ کا حکم

سوال

کیاغائبانہ نمازجنازہ ہوتی ہے؟

جواب

احناف کے نزدیک میت کے لیے غائبانہ نمازجائزنہیں ہے،نمازجنازہ صحیح ہونے کے لیے جنازہ کاسامنے ہوناشرط ہے۔نجاشی کاغائبانہ نمازجنازہ جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھاتھااس کونجاشی کی خصوصیت قراردیتے ہیں،نیزروایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ نجاشی کاجنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کردیاگیاتھا۔ ورنہ غائبانہ نمازجنازہ کاعام معمول نہیں تھا،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ سے باہرشہیدہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کواطلاع بھی دی گئی لیکن ان کی غائبانہ نمازجنازہ نہیں پڑھی گئی۔فقط واللہ اعلم

فتاویٰ شامی میں ہے:

فلاتصح علی غائب وصلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی النجاشی لغویۃ اوخصوصیۃ۔(باب صلوۃ الجنازۃ،2/209،ط:سعید)

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143705200034
تاریخ09-03-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں