بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کے ذمہ سسرال کی خدمت کا حکم

سوال

کسی جگہ پڑھاتھاکہ شوہرکے ماں باپ شوہرکے لیے اوربیوی کے ماں باپ بیوی کے لیے،یعنی بیوی کے اوپرشوہرکے ماں باپ کی خدمت فرض نہیں ہے۔یہ بات قرآن کی کونسی آیت یاکس حدیث میں ہے؟بتلادیں۔

جواب

شرعاً بیوی کے ذمہ شوہرکے والدین کی خدمت واجب نہیں ہے،لیکن اخلاقی طورپراس کاخیال کرناچاہئے کہ وہ اس کے شوہرکے والدین ہیں تواپنے والدین کی طرح انہیں بھی راحت پہنچانے کی کوشش کرے،اس طرح آپس کے تعلقات خوشگواررہتے ہیں۔

کچھ احکام فقہی اورقانونی طورپرلازم ہوتے ہیں اورکچھ اخلاقی واحسانی طورپر۔قانونی طورپربیوی کے ذمہ شوہرکے والدین کی خدمت نہیں ہے،البتہ شوہرکے والدین کی خدمت عورت پراس وقت دیانۃً واجب ہوگی جب کوئی اورخدمت کرنے والامیسرنہ ہو۔اوراگرکوئی اورخدمت کرنے والامیسرہوتب بھی عورت کوچاہیے کہ ساس سسرکی خدمت سے ہاتھ نہ کھینچے،یہ اس کااپنے شوہرکے ساتھ تعاون ہے،بہرحال اس مسئلہ میں اعتدال اورمیانہ روی کی ضرورت ہے۔

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143705200015
تاریخ22-02-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں