بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کا مرد کی آواز سننے کا حکم

سوال

کیا اہل حق مردوں کا خوش آوازی سے ایسے اشعار جس میں خلاف شرع باتیں نہ ہو ( آلات موسیقی بھی نہ ہو ) پڑھنا اور عورتوں کا براہ راست ( پردہ کے پیچھے) سننا یا ریکارڈنگ سننا شریعت مقدسہ کی رو سے جائز ہے؟

جواب

عورت کے لیے فی نفسہٖ مردکی آواز سنناجائزہے،بوقت ضرورت،ضرورت کے بقدرگفتگوبھی کرسکتی ہے،یہی حکم تقریر،حمدونعت کے اشعار وغیرہ سننے کابھی ہے،البتہ اگرمردکی آواز کی وجہ سے خوف فتنہ ہواورذہن میں پراگندہ خیالات پیداہونے کااندیشہ ہوتوممنوع ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143705200008
تاریخ17-02-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں