بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ناجائز ملازمت میں ملوث ہونا

سوال

آج کل حلال روزگار کا حصول بہت مشکل ہوگیا ہے، اور حلال نوکری نہیں مل رہی ہے، کیا ایسی صورت میں اسلامی بینک یا کسی ایسی ملٹی نیشنل کمپنی میں جو حرام قسم کی پراڈکٹس تیار کرتی ہو، نوکری کرنا کیسا ہےَ جب کہ کوئی دوسرا ذریعہ آمدن نہ ہو؟ 

جواب

حلال روزگار کا حصول مشکل ضرور ہے، ناممکن نہیں، بظاہر معیار زندگی کے غیر معمولی طور پر بڑھ جانے کی وجہ سے انسانی خواہشات بھی ضروریات کی طرح شمار کی جانے لگی ہیں، جس کے باعث باکفایت حلال روزگار کے حصول ہی کو مشکل یا ناممکن سمجھا جانے لگا ہے۔ اس لیے کسی بھی بینک یا حرام پروڈکٹ تیار کرنے والی کمپنی میں ملازمت جائز نہیں۔اگر کوئی اس حد تک مجبور ہو کہ فاقوں کی نوبت ہو تو اس کے لیے پھر مذکورہ ملازمت جائز ہوگی۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143704200009
تاریخ20-01-2016

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں