بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قریبی رشتہ داروں سے پردے کا حکم

سوال

اجتماعی خاندانوں میں چہرے کے پردے کے بارے میں ہر ایک کو بہت دقت کا سامنا ہوتا ہے ۔ کیا ان خاندانوں میں بھابھی، چچا زاد بہن وغیرہ کا چپرہ دیکھنا جائز ہے؟ اگر ہاں تو کس حد تک؟

جواب

ہر وہ نا محرم عورت  جس سے کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز ہو سکتا ہو اس سے شریعت میں پردے کا حکم آیا ہے،چاہے وہ رشتے دار ہو یا اجنبی خاتون۔

تاہم مشترکہ گھر میں رہنے والی رشتہ دار نا محرم خواتین جن سے مکمل پردہ کرنے میں سخت حرج اور مشکل پیش آتی ہو ان کے بارے میں شریعت میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ  خواتین اپنے سر پر بڑی چادر اس طور پر لپیٹ لیا کریں کہ سوائے چہرے کے باقی جسم  ڈھک جائے،البتہ اس کا اہتمام ضروری ہے کہ نامحرم مردوں کے ساتھ نہ تنہائی ہو اور نہ بلاضرورت گفتگو ہو۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143703200008
تاریخ17-12-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں