بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نمازمیں دوسرے کے بتانے پر عمل کرنا

سوال

دو آدمی نمازپڑھ رہے تھے جس میں سے ایک امام اوردوسرا مقتدی تھا کسی تیسرے آدمی نے آکران دونوں کے کان میں ایک ایک کرکے بولاکہ امام آپ تھوڑا آگے ہوجائیں ، اورمقتدی سے کہاکہ آپ تھوڑاپیچھے ہوجائیں،تاکہ  میں بھی آپ کے ساتھ نمازمیں شریک ہوجاوں،تواس صورت میں امام اورمقتدی نے ان کالقمہ قبول کرلیا تو ان کی نمازہوجائے گی یاٹوٹ جائے گی؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگرامام اورمقتدی نمازسے خارج آدمی کی بات پرعمل کرتے ہوئے  آگے پیچھے ہوئے توان کی نمازٹوٹ گی۔اس لیے کہ اگرکوئی نمازی نمازکے اندردوسرے کے بتانے پرعمل کرتاہے تونمازفاسدہوجاتی ہے۔ایسی صورت میں نمازی کوچاہئے کہ تھوڑی دیروقفہ کرے اورپھراپنی مرضی سے وہ کام کرے۔(فتاویٰ شامی،1/622،کتاب الصلوۃ،ط:سعید)فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143702200032
تاریخ12-12-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں