سونے کی مقررہ مقدار سے کم میں زکوۃ کا حکم
سوال
چند دن پہلے نیا سال مکمل ہوا۔ مقررہ قمری تاریخ کو میری ملکیت میں صرف چار تولے سونا اور 215 رپے تھے۔ کیا مجھے زکو ٰۃ ادا کرنا ہوگی؟
جواب
اگرکسی شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سے کم سوناہو،لیکن اس کے ساتھ کچھ نقد رقم،چاندی یامال تجارت ہو خواہ وہ مقدارمیں کم ہی ہو،لیکن اس کوسونے کے ساتھ ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت بن جاتی ہو توزکوۃ فرض ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں جب سال مکمل ہوا اورسونے کے ساتھ کچھ نقدرقم بھی تھی اورمالیت ساڑے باون تولہ چاندی کوپہنچ رہی ہے ،لہذا زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

