بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زندگی میں اموال کی تقسیم

سوال

1- کیا والد کی زندگی میں وراثت تقسیم ھو سکتی ہے؟ کہ والد ایک سال سے فالج کے حملہ کی وجہ سے بستر پر ہیں.. اور اولادوں میں سے چند ایک کو پیسے کی سخت ضرورت ہے. 2- پہلی ماں کا انتقال ہو چکا ہے. پہلی ماں سے... ایک لڑکا اور پانچ لڑکیاں کل چھ. بچّے ہیں. دوسری ماں حیات ہے. اس سے چار بچّے ہیں. دو لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں.. اگر وراثت تقسیم ہو سکتی ہے.. تو کس طرح ھو گی؟

جواب

 زندگی میں انسان کا مال اس کی ملکیت ہوتا ہے، وراثت نہیں، اس لیے اگر انسان اپنی زندگی میں ازخود اپنا مال اپنی رضامندی سے تقسیم کرے تب ہی وہ مال تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ چونکہ آپ کے والد، گو کہ مریض ہیں، مگر ابھی حیات ہیں، اس لیے ان کے اموال ان کی ملکیت ہیں اور ان کے انتقال کے بعد ہی ان کا یہ مال بطور وراثت تقسیم ہوگا۔

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 143702200019
تاریخ01-12-2015

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں